Monday, October 28, 2013

حضرت لال شہباز قلندر رحمۃاللہ

مشہور ہے کہ حضرت لال شہباز قلندر رحمۃاللہ علیہ سہون کے ایک محلے میں اکثر بیٹھا کرتے تھے - اس محلے میں ایک مشہور ہندو خاندان رہتا تھا - یہ لوگ پردے کے سخت پابند تھے -
اس خاندان کی ایک عورت حضرت لال شہباز قلندر سے بیحد عقیدت رکھتی تھی - جب آپ اس گلی سے گزرتے تو وہ آپ کو دیکھنے کے اشتیاق میں کھڑکی میں چلی آتی تھی -
آپ ہمیشہ سر جھکا کے چلتے تھے اس لئے وہ عورت آپ کوپوری طرح دیکھنے میں ہمیشہ ناکام رہی - ایک روز اس عورت کی وحشت اتنی بڑھی کہ آپ کا روئے تاباں دیکھنے کے اشتیاق میں اس نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی -اس نے ایک نظر حضرت کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور دنیا سے رخصت ہو گئی -

اس کے مرتے ہی حضرت قلندر رحمۃاللہ نے اپنی چادر اس کے جسم پر ڈال دی-
ہر طرف شور مچ گیا اس عورت کے رشتےدار بھی جمع ہو گئےلوگوں نے اس کی لاش اٹھانے کی کوشش کی - لیکن لاش اتنی وزنی ہو گئی تھی کہ کوشش کے باوجود نہ اٹھ سکی -
حضرت قلندر رحمۃاللہ نے فرمایا..! " اگر تم پورے شہر کے ہندوؤں کو جمع کر لو گے تب بھی یہ لاش نہیں اٹھ سکے گی - "
لڑکی کے رشتےداروں نے پوچھا -
" اس سے ایسا کیا گناہ سر زد ہو گیا ہے مائی باپ ! "
حضرت نے فرمایا -
" اس عورت کی قسمت میں جلنا نہیں ہے - "
لڑکی کے رشتےداروں نے کھا -
" ہمارا مذھب تو جلانے کی ہی تاکید کرتا ہے - "
حضرت نے فرمایا - " اگر تم اسے دفن کرنے کا وعدہ کرو تو لاش اٹھ جائے گی "
ہندوؤں کو آپ کی یہ شرط ماننی پڑی - ہندو عورت کی ارتھی نہیں بلکہ جنازہ اٹھا اور مسلمانوں کے طریقے سے دفن کیا گیا -
آپ کی اس کرامت کو دیکھ کر اس خاندان کے بیشتر افراد آپ کے دست مبارک پر ایمان لے آئے -
عرس کے موقع پر جو مہندی اٹھتی ہے اس عورت کی قبر سے اٹھائی جاتی ہے اور مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی لال شہباز کی درگاہ پر آتی ہے -
حضرت لال شہباز قلندر کو دنیا سے پردہ کيے ہوئے آٹھ سو سال سے زیادہ ہو گئے لیکن آپ کا فیض روحانی اب بھی جاری ہے -
آپ کی یادگاریں اب بھی تابندہ و زندہ ہیں -
اولیاء الله کی یہی شان ہوتی ہے -

از ڈاکٹر ساجد امجد (ماخذات تذکرہ صوفیہ سندھ)

No comments:

Post a Comment