Tuesday, October 29, 2013

ابدی گھر



کرامت علی ایک بہترین معمار تھا اتنا بہترین کے اس پورے علاقے میں کوئی معمار بھی اس کے مقابلے کا نہیں تھا ، اس کے بنائے ہوئے مکان فن تعمیر کا شاہکار ہوا کرتے تھے ، وہ اپنے کام میں اتنی محنت کرتا اور اتنی لگن سے کام کرتا کہ اس کی مثال ملنا ممکن نہ تھی، ہر ہر چیز کو اعلی معیار میں کرنے کی کوشش کرتا ، یہی وجہ تھی کہ اس کی بہت مانگ تھی اور ہر کوئی اس سے ہی کام کروانا چاہتا تھا ،
کرامت علی بہت عرصے سے ایک سیٹھ صاحب کے ساتھ کام کر رہا تھا جو خود زمین خریدتے اور پھر کرامت علی کے حوالے کر دیتے اور پھر کرامت علی اپنے ہنر کے جوہر دکھا کر کچھ ہی مہینوں میں اس پر ایک خوبصورت مکان کھڑا کر دیتا جو کہ مہنگے داموں فروخت ہوتا، ہر کوئی کرامت علی کے بنائے ہوئے مکان کو خریدنے کی کوشش کرتا، کیونکہ اس کا معیار بہت اعلی درجے کا ہوتا تھا ،
کرامت علی کو یہ کام کرتے ہوئے 40 سال ہوگئے تھے ، اب وہ تھکن سی محسوس کرنے لگ گیا ، اور پھر اس نے فیصلہ کیا کہ اب اسے آرام کرنا چاہیے کیونکہ اب اسکی عمر کام کرنے کی نہیں رہی تھی،
اس نے سیٹھ صاحب سے درخواست کی کہ اب وہ کام نہیں کرنا چاہتا اس لیے اب اسے فارغ کر دیا جائے ، سیٹھ صاحب نے کام کرنے پر اصرار کیا لیکن کرامت علی نہ مانا، آخر کار سیٹھ صاحب نے اسکی درخواست منظور کر لی اور اسے کہا کہ ٹھیک ہے اب تم باقی زندگی آرام کرو لیکن جانے سے پہلے صرف ایک مکان اور بنا دو ، یہ آخری مکان ہو گا ،
کرامت علی چاہتے ہوئے بھی انکار نہ کرسکا لیکن اب اس کا کام میں دل نہیں لگ رہا تھا اس لیے اس نے اس مکان کے معیار پر اتنی توجہ نہ دی، کام بھی بددلی سے کیا اور تعمیر بھی اچھی طرح سے نہ کی، آخر کار جیسا تیسا مکان بن کر تیار ہو گیا ،لیکن لگتا ہی نہ تھا کہ یہ مکان کرامت علی کے ہاتھوں سے وجود میں آیا ہے ، اتنا غیر معیاری کام اس نے کبھی نہیں کیا تھا ،
مکان سے فارغ ہوکر کرامت علی سیٹھ صاحب کے پاس سے اجازت لینے گیا ، سیٹھ صاحب نے اٹھ کر اسے گلے سے لگایا اور کہا کہ تم نے اتنا عرصہ میرے ساتھ کام کیا تو میرا حق بنتاہے کہ اس کا کچھ نا کچھ انعام تمہیں دوں ، تو یہ لو چابیاں ۔ یہ اس مکان کی ہے جو تم نے اب تیار کیا ہے ، یہ میں نے تمہارے لیے ہی بنوایا تھا کہ تمہیں تحفے میں دے سکوں
کرامت علی کو یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ اس نے اس مکان کی تعمیر کا خیال کیوں نہ رکھا ، لوگوں کے لیے بہترین مکان بنائے لیکن اپنے لیے جو مکان بنایا وہ گھٹیا درجے کا بنا لیا ، لیکن اب افسوس کرنے سے کیا ہوتا ،

ذرا سوچئے کہ کیا ہمارا بھی یہی حال نہیں کہ ہم اس دنیا میں لوگوں کے لیے محنت کرتے ہیں لیکن مرنے کے بعد جہاں جا کر رہنا ہے اس مکان کو اچھا اور خوبصورت بنانے کا نہیں سوچتے ، اور جب وہاں جا کر اس مکان کو دیکھتے ہیں تو افسوس کرتے ہیں لیکن اس وقت افسوس کرنے کا کوئ فائدہ نہیں ہوتا تو کیوں نہ ہم اپنے اس مکان کو خوبصورت بنانے کے لیے ابھی سے محنت شروع کر دیں تاکہ ہمیں وہاں جا کر کوئی افسوس نہ ہو

Monday, October 28, 2013

حضرت لال شہباز قلندر رحمۃاللہ

مشہور ہے کہ حضرت لال شہباز قلندر رحمۃاللہ علیہ سہون کے ایک محلے میں اکثر بیٹھا کرتے تھے - اس محلے میں ایک مشہور ہندو خاندان رہتا تھا - یہ لوگ پردے کے سخت پابند تھے -
اس خاندان کی ایک عورت حضرت لال شہباز قلندر سے بیحد عقیدت رکھتی تھی - جب آپ اس گلی سے گزرتے تو وہ آپ کو دیکھنے کے اشتیاق میں کھڑکی میں چلی آتی تھی -
آپ ہمیشہ سر جھکا کے چلتے تھے اس لئے وہ عورت آپ کوپوری طرح دیکھنے میں ہمیشہ ناکام رہی - ایک روز اس عورت کی وحشت اتنی بڑھی کہ آپ کا روئے تاباں دیکھنے کے اشتیاق میں اس نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی -اس نے ایک نظر حضرت کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور دنیا سے رخصت ہو گئی -

اس کے مرتے ہی حضرت قلندر رحمۃاللہ نے اپنی چادر اس کے جسم پر ڈال دی-
ہر طرف شور مچ گیا اس عورت کے رشتےدار بھی جمع ہو گئےلوگوں نے اس کی لاش اٹھانے کی کوشش کی - لیکن لاش اتنی وزنی ہو گئی تھی کہ کوشش کے باوجود نہ اٹھ سکی -
حضرت قلندر رحمۃاللہ نے فرمایا..! " اگر تم پورے شہر کے ہندوؤں کو جمع کر لو گے تب بھی یہ لاش نہیں اٹھ سکے گی - "
لڑکی کے رشتےداروں نے پوچھا -
" اس سے ایسا کیا گناہ سر زد ہو گیا ہے مائی باپ ! "
حضرت نے فرمایا -
" اس عورت کی قسمت میں جلنا نہیں ہے - "
لڑکی کے رشتےداروں نے کھا -
" ہمارا مذھب تو جلانے کی ہی تاکید کرتا ہے - "
حضرت نے فرمایا - " اگر تم اسے دفن کرنے کا وعدہ کرو تو لاش اٹھ جائے گی "
ہندوؤں کو آپ کی یہ شرط ماننی پڑی - ہندو عورت کی ارتھی نہیں بلکہ جنازہ اٹھا اور مسلمانوں کے طریقے سے دفن کیا گیا -
آپ کی اس کرامت کو دیکھ کر اس خاندان کے بیشتر افراد آپ کے دست مبارک پر ایمان لے آئے -
عرس کے موقع پر جو مہندی اٹھتی ہے اس عورت کی قبر سے اٹھائی جاتی ہے اور مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی لال شہباز کی درگاہ پر آتی ہے -
حضرت لال شہباز قلندر کو دنیا سے پردہ کيے ہوئے آٹھ سو سال سے زیادہ ہو گئے لیکن آپ کا فیض روحانی اب بھی جاری ہے -
آپ کی یادگاریں اب بھی تابندہ و زندہ ہیں -
اولیاء الله کی یہی شان ہوتی ہے -

از ڈاکٹر ساجد امجد (ماخذات تذکرہ صوفیہ سندھ)

رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی


ایک دن ایک جٹ بابا بلہے شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا ۔
کہنے لگا ’’دنیا داری زیادہ نہیں جانتا، عشقِ حقیقی سمجھنا ہے ۔‘‘
بابا جی نے کہا ’’یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے زیادہ محبت کس سے کرتے ہو؟ ‘‘
کہنے لگا ’’اپنی بھینس سے کرتا ہوں ۔‘‘
بابا جی نے کہا ’’آج سے تمہارا سبق یہی ہے کہ اُسے دیکھتے رہو ۶ (چھ) مہینے تک۔ ‘‘
بندہ خوش ہو گیا۔
چھ مہینے کے بعد حاضر ہُوا تو بابا جی نے پوچھا کہ’’ کون ؟‘‘
اُس نے کہا’’ جٹ۔‘‘
بابا جی نے پھر حکم کیا ’’جاؤ اور چھ مہینے بعد آنا۔‘‘
جس دن وہ بابا جی کو ملنے آیا تو دروازے سے سر ٹکرا کر واپس ہو جاتا اندر نہیں جا رہا تھا ۔
بابا جی نے اس سے پوچھا کہ ’’بھائی! اندر کیوں نہیں آتے؟‘‘
کہنے لگا ’’بابا جی! اندر کیسے آؤں میرے دونوں سینگ اِس دروازے میں پھنس جاتے ہیں۔‘‘
بابا جی نے ہنستے ہوئے کہا ’’جاؤ! آج تمہارا سبق پورا ہوا۔‘‘

رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
(بابا بلہے شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ)